عرسِ حضرت علامہ حافظ قاری محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ
:انسان کا مقصدِحیات
اللہ تعالٰی نے انسان کو اِس دنیا میں اپنی عبادت کے لیے
بھیجا ہے اور اللہ نے انسان کی رہنمائی کے لیے انبیاء و مرسلین علیہم السلام
کومبعوث فرمایا تاکہ اِنہیں معلوم ہو کہ اِس کائنات کا خالق و مالک کون ہے اُسنے
اِنہیں کیوں کر پیدا فرمایا اور اللہ رب العزت اپنے بندوں سے کیا چاہتا ہے۔ پھر
اسی طرح انبیاء و مرسلین علیہم السلام کی بعثت کا سلسلہ جاری رہا اور آخر میں یہ
سلسلہ ہمارے آقاومولاتاجدارِ انبیاء خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ علیہ والہ
وسلم پر مکمل فرمایا اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو کسی مخصوص قوم
یا خطے کے لیے نہیں بلکہ سارے جہاں کی رہنمائی کے لیے بھیجا یعنی جس کو جو ملنا ہے
آپ علیہ السلام کے در سے ہی ملنا ہے۔
پھر جب کسی مسلمان نے اللہ اور اُسکے حبیب صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرنا شروع کی اور پھر دل و جان سے اخلاص کے
ساتھ اپنے رب کی عبادت کی اور دین میں آنے والی آزمائشوں پر ثابت قدم رہا تو اللہ
نے اُسکا مقام بلند کردیا اور جب وہ مزید اپنے رب اور اُسکے حبیب صلی اللہ علیہ
والہ وسلم کی خوشنودی کو تلاش کرنے نکلا اور ہر آنے والی مشکل پر صبر کیا اور رب
کی رضا کو اپنی رضا سمجھا تو رب نے بھی اُسے اپنے عظیم بندوں میں شامل فرما لیا،
اِسطرح کوئی سیدنا شیخ عبد القادرجیلانی بنا تو کوئی داتا علی ہجویری بنا اور کوئی
خواجہ غریب نواز بنا رضوان اللہ اجمعین۔
:قاری صاحب علیہ الرحمہ کا مختصر تعارف
اللہ اور اُسکے جبیب صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی رضا کی
خاطر اپنی زندگی وقف کرنے والوں میں ایک نام "حضرت
علامہ حافظ قاری محمد مصلح
الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ" کا بھی ہے جنہوں نے اپنی زندگی کو صرف دین کے
لیے وقف کردیا ساری زندگی دین کی سر بلندی کے لیے لگادی۔ہم آپکو قاری صاحب علیہ
الرحمہ کا مختصر تعارف کراتے ہیں۔
قاری صاحب علیہ الرحمہ بروز پیر11 ربیع الاول 1336 ہجری
بمطابق27 دسمبر 1917 میں بھارت کے شہر نندِد میں پیدا ہوئے، آپکے والد محترم کا نام "علامہ مولانا
محمد غلام جیلانی رحمۃ اللہ علیہ" تھا۔ قاری صاحب علیہ الرحمہ نے ابتدائی
تعلیم اپنے والدِ گرامی سے حاصل کی۔ تقسیمِ ہند کے بعد آپ نے کراچی ہجرت کرلی اور
اپنی پوری زندگی کراچی میں ہی دین کا پیغام عام کرتے رہے۔
آپ علیہ الرحمہ کا نسب اور کن سلاسل میں خلافت حاصل ہوئی:
آپ کا نسب شریف "صدیقی" ہے اور آپکو سلسلہ عالیہ
قادریہ، رضویہ، سنوسیہ شاذلیہ، منوریہ، معمریہ اور اشرفیہ میں خلافت حاصل ہے۔
:کرامات مصلح اہلسنت
آپکی کی بہت سی کرامات ہیں لیکن اختصار کے سبب ایک پیش کی
جارہی ہے۔
یہ اُن دنوں کا واقعہ ہے جب الٹراساؤنڈ وغیرہ نہیں تھا، یہ
بیان صوفی محمد اقبال قادری ضیائی کا ہے وہ کہتے ہیں کہ 15 اکتوبر 1981 کو میرے
بھتیجے محمد اویس کی پیدائش پر قاری صاحب علیہ الرحمہ کو جدہ فون کیا، قاری صاحب
علیہ الرحمہ حج کے بعد جدہ میں قیام فرما تھے، میں نے عرض کی حضرت بڑے بھائی سلیم (جو کہ حضرت کے ہی مرید ہیں) کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے محمد اویس نام رکھا ہے۔ قاری
صاحب علیہ الرحمہ نے فرمایا وہاں محمد
اویس اور یہاں محمد انس۔ اِس فرمان کے 2 ماہ
6 دن بعد میرے یہاں (لڑکے) محمد انس کی
پیدائش ہوئی۔
:قاری صاحب علیہ الرحمہ کا وصال مبارک
قاری صاحب علیہ الرحمہ کا وصال 7 جمادی الثانی 1403
ھجری بمطابق 23 مارچ 1983 میں ہوا آپ نے 67 سال کی عمر میں وصال فرمایا، آپکا
مزار شریف میمن مسجد مصلح الدین گارڈن کراچی میں واقع ہے۔
تحریر از: محمد فیصل ترابی
اس تحریر کے لیے مختلف معلومات مدرسۃالمصطفٰی کے فیس بُک پیج سے لی گئی ہے۔



Bht khob
ReplyDeleteبڑی نوازش۔۔۔
Delete