حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ اور تصورِ رہبری

ہم اپنے رہبروں کی اتباع کس طرح کریں؟


ہم اپنے معاشرے پر غور کریں تو ہمیں ایک اہم کمزوری نظر آئے گی کہ اگر ہم کسی کو اپنا رہبر، رہنما یا بڑا بناتے ہیں تو جس طرح اُسکی اتباع کرنا چاہیے اُس طرح نہیں کرپاتے، اور بجائے اپنے رہبر کا حکم ماننے کہ اپنے آپ کو کچھ بہتر سمجھتے ہیں۔ لیکن بات یہاں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ بہت آگے جاتی ہے کہ ایک وقت ایسا آتا ہے، ہم اپنے رہبر سے بغض کی آگ میں ایسا جلنے لگتے ہیں کہ اپنے دوسرے ساتھیوں کو بھی اپنے رہبر سے نفرت کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں لیکن اِس سب میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اُس شخص کو اپنا رہبر خود ہی سب کچھ سوچ سمجھ کربنایا ہے۔
اس معاملے میں ہم اپنی اور دوسروں کی اصلاح کے لیے اپنے اسلاف کی ایک عظیم شخصیت "حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ" کی زندگی سے ایک واقعہ پیش کرنے جارہے ہیں ملاحظہ فرمائیے۔


ایک مرتبہ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ نے اپنی مجلس میں مریدین سے فرمایا کہ: تنہائی زہر ہے انسان کو چاہیئے کہ تنہا رہنے سے بہتر نیک لوگوں کی محافل میں شرکت کیا کرے، تو آپ کے ایک مرید نے یہ بات سنی تو اِس بات کو ماننے سے انکار کردیا، حالانکہ ہونا یہ چاہیئے تھا کہ وہ مرید اپنے پیر کی بات کو مانتا کیوں کہ پیرِکامل یا کوئی رہبر چُنا ہی اتباع کے لیے جاتا ہے۔
پھر اُس مرید نے تنہائی اختیار کرلی اُسکے دوسرے پیر بھائیوں نے اُسے سمجھایا کہ تنہائی پسند مت بنو کیوں کہ پیر صاحب کی تعلیمات اِسکے برعکس ہیں لیکن وہ مرید جواب دیتا ہے کہ پیر صاحب کی تعلیمات عام مریدوں کے لیے ہے میں تو اب کامل ہوچکا ہوں، میرے روحانی معاملات بہت بلند ہوچکے ہیں اِس وجہ سے میرے لیے تنہائی ہی زیادہ بہتر ہے۔
کچھ دنوں بعد وہ مرید خواب دیکھنے لگا کہ ہر رات فرشتے اسکے پاس آتے ہیں اور اسے لیکر جنت کی سیر کراتے ہیں۔ اور یہ مرید خوشی خوشی جنت کی سیر کرتا ہے فرشتے اسے ایسے ایسے مقامات پر لے جاتے ہیں جہاں پر دلکش سبزہ زار ہوتاہے، صاف شفاف پانی کی نہریں بہہ رہی ہوتی ہیں پھر حسین و جمیل لوگ اسکی خدمت میں لذیذ کھانے پیش کرتے ہیں اور وہ رات بھر جنت میں رہتا ہے اور صبح کے وقت اُسکو فرشتے اُسکے گھر چھوڑ جاتے ہیں۔
جب یہ خواب اُسے روز آنے لگے تو اُس مرید کی تو کیفیت ہی بدل گئی لوگوں سے کہتا کہ میری کیا پوچھتے ہو میں تو روز جنت کی سیر کو جاتا ہوں۔ اب بغداد میں ایک مسئلہ کھڑا ہوگیا وہاں کہ سادہ لوح افراد اسکے گرد جمع ہونے لگے اور یہ انھیں جنت کے سفر نامے سناتا۔
جب یہ خبر حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ تک پہنچی تو آپکے چہرے پہ اذیت اور کرب کے آثار نمایاں ہوگئے اور آپ نے ایک خدمت گار سے فرمایا: اُسے میرے پاس لیکر آؤ اللہ اسکے حال پر رحم کرے۔ جب جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے مرید نے اُس شخص سے کہا کہ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ یاد فرما رہے ہیں تو وہ غرور تکبر میں کہنے لگا کہ: میں تو خود ایک کامل شیخ بن گیا ہوں مجھے کہیں جانے کی ضرورت نہیں جس نے آنا ہے خود آئے میں اُسے بھی جنت کی سیر کرادوں گا۔ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کو جب اُسکا جواب ملا تو آپ نے بڑے تحمل سے سُنا اور پھر اپنے مرید کی اصلاح کے لیے خود چل دیئے۔ ایسے ہوتے ہیں رب العزت کے چُنے ہوئے لوگ جو دین کی خاطر اپنے مقام کو خاطر میں نہیں لاتے اور کسی کی اصلاح کے لیے خود ہی چل دیتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ والوں کا مقام عظیم مرتبوں پر فائز ہوتا ہے اور ان اللہ والوں میں حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کا بھی ایک عظیم مقام ہے۔
وہ مرید تو غرور و تکبر کی آگ میں جل رہے تھے ساتھ ہی کچھ سادہ لوح افراد بھی انکے گرد بیٹھے تھے،  جنید بغدادی علیہ الرحمہ کو دیکھ کر کسی بھی ادب و احترام کو خاطر میں نہ لائے اور اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہے۔ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ نے اسکا یہ رویہ نہایت ہی خوش دلی سے برداشت کیا، پھر اُس سے اسکے شب و روز کا احوال معلوم کیا مرید وہی باتیں کرنے لگا کہ: میں رات بھر جنت کی سیر کرتا ہوں اور فرشتے میری میزبانی کرتے ہیں اور اللہ کی نعمتیں میرے سامنے پیش کی جاتی ہیں۔
جنید بغدادی علیہ الرحمہ نے اُس سے پوچھا کہ: کیا آج رات بھی جنت کی سیر کو جاؤ گے۔ تو اُس مرید نے اکڑ کر جواب دیا: ہاں میں تو روز جاتا ہوں آج بھی جاؤں گا، اس تکبر کی آگ میں اسکو یہ بھی نظر نہیں آیا کہ اُسکے پیر و مرشد سامنے بیٹھے ہیں۔ حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ نے اس سے کہا کہ:  ہماری خاطر ایک کام بھی کردینا۔ مرید نے اپنا منہ بناتے ہوئے کہا: وہ کیا ہے؟ آپ علیہ الرحمہ نے فرمایا: جب فرشتے تمھیں جنت میں لے جائیں تو ایک مرتبہ "لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم" پڑھ دینا۔ مرید نے وہی غرور و تکبر میں کہا: مجھے اسکی ضرورت نہیں، اس پر جنید بغدادی علیہ الرحمہ نے فرمایا: تمہیں اسکی ضرورت نہیں لیکن میری درخواست ہے اس پر غور کرلینا۔ پھر حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ اُسکے غرور و تکبر کو نظر انداز کرتے ہوئے واپس تشریف لے گئے۔
معمول کے مطابق رات کو فرشتے اسکے خواب میں آئے اور اونٹ پر سوار کرکے جنت لے گئے، یہ مختلف مقامات کی سیر کرتا رہا پھر اسکے سامنے لذیذ کھانے پیش کئے گئے یہ ابھی ان مناظر میں مدہوش تھا کہ اُس کو اپنے پیرومرشد کی بات یاد آئی تونہ چاہتے ہوئے بھی اُسنے وہ کلمات ادا کردیئے، جن کلمات کی درخواست حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ نے کی تھی " لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم " ابھی ان کلمات کی گونج ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ سارے فرشتے چیختے ہوئے بھاگ گئے۔ اب یہ مرید اپنی اس جنت میں تنہا کھڑا تھا وہاں نہ کوئی سبز و شاداب باغ تھا نہ کوئی خوبصورت منظر تھا وہاں ویران کھنڈرات ماحول کو خوفناک بنا رہے تھے، لذیذ کھانوں کی جگہ مردہ انسانوں کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں یہ منظر دیکھ کر اس کی آنکھ کھل گئی۔ اسکا پورا جسم خوف و دہشت سے کانپ رہا تھا اور وہ خوف کے مارے چیخ رہا تھا، کہاں گئے فرشتے کہاں گئی میری دلفریب جنت؟
جب اُسکو معلوم ہوا کہ یہ سب شیطان کا فریب تھا تو وہ روتا ہوا اپنے پیرو مرشد حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انکے قدموں سے لپٹ کر کہنے لگا: حضرت مجھے معاف کردیجیئے اگر آپ میری رہنمائی نہ فرماتے تو میں ہلاک ہوجاتا۔ مجھے شیطان نے اُس وادی میں لے جا کر ہلاک کردینا تھا آپ نے درست فرمایا تھا کہ "تنہائی مرید کے لیے زہر ہے"۔
ہم حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کے اس واقعہ سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں لیکن میرا مقصود رہبری یا رہنمائی تھا کہ ہم اگر کسی کو کسی بھی معاملے میں اپنا امیر، رہبر یا رہنما بنا لیں تو اسکے ساتھ مکل تعاون کرنا چاہیئے نا کہ ہم اُس کی ٹانگیں کھینچنے لگیں۔ کیوںکہ

ہم کوئی بھی منزل حاصل نہیں کرسکتے اگر اپنے رہنما کو رہنما نہ مان لیں"۔"


تحریر از: محمد فیصل ترابی

Comments

Post a Comment