نگاہِ اولیاء اللہ
اللہ ربّ العزت نے اپنے خاص چُنے ہوئے بندوں کو خاص علم عطا
فرمایا ہوتا ہے اور انکو ربّ العزت کی طرف سے نگاہِ خاص عطا ہوتی ہے جن چیزوں کا
علم ہمیں نہیں ہوتا وہ اِن اولیاءاللہ کو عطا کیا جاتا ہے۔ ایسے ہی بزرگوں میں ایک
عظیم نام خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ کا بھی ہے۔ خواجہ اجمیری علیہ
الرحمہ سے کون واقف نہیں انکا آستانہ تو ایسا آستانہ ہے جہاں سے مسلمان تو مسلمان
غیر بھی استفادہ حاصل کرتے ہیں، یہ غریب نوازعلیہ الرحمہ کا ہی وسیلہ ہے کہ ربّ
العزت نے ہمیں مسلمان پیدا فرمایا اور الحمدللہ آج ہم ان ہی بزرگوں کے نام لیوا
ہیں۔ عرسِ خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی نسبت سے ہم نے نگاہِ سلطان الہند علیہ
الرحمہ کے عنوان سے یہ مختصر سا بلاگ لکھا ہے اس میں ہم نے خواجہ اجمیری علیہ
الرحمہ کی عظیم شخصیت سے متعلق ایک واقعہ لکھا ہے۔ ہمیں اُمید ہے کہ یہ بلاگ آپ کی
معلومات میں اضافے کا سبب ہوگا۔
:نگاہِ سلطان الہند علیہ الرحمہ
پرتھوی کی شہاب الدین غوری کے ہاتھوں عبرت ناک شکست کے بعد ویسے تو اجمیر پر مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگئی تھی اور اکثر ہندوؤں نے مسلمانوں کی مخالفت چھوڑدی تھی مگر ابھی بھی کچھ شدت پسند ہندو مسلمانوں کے مخالف تھے اور خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ اور مسلمانوں کے خلاف شازشیں کرنے میں لگے رہتے تھے، اور دن بدن ان شدت پسند ہندوؤں کی شدت میں کافی زیادہ اضافہ ہورہا تھا اور اس ہی شدت میں انھوں نے خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کو شہید کرنے کی سازش شروع کردی تھی اور اس مقصد کے لیے وہ طرح طرح کے بدمعاشوں کو تلاش کرتے پھر رہے تھے۔
ان شدت پسندوں کے لیےخواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کا وجود برداشت سے باہر ہوتا جارہا تھا اور انکی سرکشی بڑھتی جارہی تھی اور خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کو شہید کرنے کے لیے قاتلوں کا چناؤ جاری تھا اور دن رات ایسے اشخاص کی تلاش کی تگ و دو اپنے عروج پر پہنچ چکی تھیں۔ آخر ایک ایسے شخص کا انتخاب کرہی لیا جو اپنی شکل و صورت سے بھی غنڈہ اور بدمعاش لگتا تھا ہندوؤں نے اس کو کچھ رقم دے کر خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کو شہید کرنے پر آمادہ کرلیا۔
وہ غنڈہ خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کو شہید کرنے کے ارادے سے گھر سے نکلا اور ایک تیز دھار خنجر اپنے کپڑوں میں چھپا کر سلطان الہند علیہ الرحمہ کی خانقاہ تک پہنچ گیا، خانقاہ کے دروازے تک پہنچ کر اس نے خادم سے کہا کہ میں حضرت کی زیارت کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ حضرت خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ اُس وقت خانقاہ میں تشریف فرما تھے خادم نے اندر جاکر اُس انجانے شخص کی اطلاع دی۔ حضرت خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ نے اُس انجان شخص کو فوراً ہی طلب کرلیا۔
وہ شخص خانقاہ میں آیا اور خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کی دست بوسی کی اور بظاہر بڑے ادب سے آپ علیہ الرحمہ کے سامنے بیٹھ گیا اور آپ کی تعریفیں کرنے لگا۔ کہنے لگا کہ میں عرصہ دراز سے آپ کی زیارت کا خواہش مند تھا اللہ تعالٰی نے آج میری یہ خواہش پوری کردی اور میری آنکھیں آپ کا چہرہ دیکھ رہی ہیں۔ خانقاہ میں موجود تمام لوگ اِس شخص کی عاجزی و انکساری اور اسکی خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ سے محبت دیکھ کر حیران تھے اور تقریبا سب ہی اسکی گفتگو سے متاثر نظر آتے تھے۔
جب اسنے اپنی گفتگو ختم کرلی تو سلطان الہند علیہ الرحمہ نے فرمایا: آدمی کو فضول باتوں سے پرہیز کرنا چاہیئے تم میری تعریف چھوڑو اور اُس کام کی تکمیل کرو جس کا تم نے معاوضہ لیا ہے۔ سلطان الہند علیہ الرحمہ کے یہ الفاظ اسکے سر پر ہتھوڑے کی طرح برسے اور وہ اجنبی دہشت زدہ ہوکر کانپنے لگا، پورا جسم پسینے میں شرابور ہوگیا۔ پھر کچھ دیر بعد جب وہ اپنے حوش و حواس میں آیا تو اپنے کپڑوں میں چھپا خنجر نکال کر زمین پر پھینک دیا اور خوجہ اجمیری علیہ الرحمہ کے قدموں سے لپٹ گیا اور اپنے جُرم کی معافی مانگنے لگا پھر بتایا کہ اجمیر کا ایک مالدار ہندو مجھے بہت دن سے اس کام کے لیے اُکسارہا تھا اور مجھ پر لالچ کا بھوت سوار ہوگیا تھا حرص و ہوس نے میرے دل و دماغ کو تباہ کرڈالا۔ آپ اپنے خادموں کو حکم دیجیئے کہ مجھے قتل کر ڈالیں شاید اس طرح میرے اس جُرم کا کفارہ ادا ہوجائے۔
وہ اجنبی خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ کے قدموں میں سر رکھ کر زاروقطار رورہا تھا۔ خواجہ اجمیری علیہ الرحمہ نے فرمایا: جاؤ میں نے تمھیں معاف کردیا، مسلمان نفرت کے بدلے نفرت نہیں بیچتا۔ پھر وہ اجنبی شخص آپ سے تائب ہوکر چلاگیا۔ پھر وہ شخص حج کے لیے گیا اور طواف کے دوران ہی اسکا وصال ہوگیا۔
:ہمارا پیغام
دیکھا آپ نے اللہ کے چُنے ہوئے بندوں کی کیا "کرامات" ہوتی ہیں کیسا اُنکا "علم" ہوتا ہے۔ جب ہمیں ہمارے رب نے ایسی عظیم شخصیات سے نوازا ہے تو کیوں نا ان سے فیضان حاصل کیا جائے۔ اور اللہ نے ان ہی خاص بندوں کے طفیل ہمیں ایسے علماء و صالحین عطا کیئے ہیں جو ہمارے درمیان ہوتے ہیں اور ہم انکی قدر نہیں کر پاتے اور پھر یہ حضرات ہم سے جُدا ہوجاتے ہیں پھر ہمیں ان کی قدر معلوم ہوتی ہے۔ عقل کو بڑھانے والی چیزوں میں علماء و صالحین کی صحبتوں کو اپنانا بھی شامل ہے، ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی زندگی کا کچھ حصہ علماءِحق اور صالحین کی صحبتوں میں بھی صرف کریں اور اللہ کے خاص بندوں "علماءِکرام و صالحین" کی مخالفت کی بجائے انکے احکام بجالائیں کیوںکہ انکی پیروی کرنے سے ہمیں صرف دنیا میں ہی نہیں بلکہ آخرت کی سرخروئی بھی نصیب ہوگی۔
تحریر از: محمد فیصل ترابی



This comment has been removed by the author.
ReplyDeleteMasha Allah very informative blog.
ReplyDeleteماشاءاللہ آپ نے بہت اچھا اور معلوماتی بلاگ تحریر فرمایا
ReplyDelete