نوجوان ہماری قوم کی بقاء کے ضامن
نوجوان کسی بھی قوم کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں یہ
بات آپ نے اکثر سنی ہوگی اور پڑھی بھی ہوگی، لیکن دورِحاضر میں اگر ہم اپنے معاشرے
پر نظر ڈالیں تو ہم اپنی ریڑھ کی ہڈی کو انتہائی کمزور محسوس کریں گے۔ اگر بیان
کیا جائے تو اِس کمزوری کی کئی وجوہات نکل سکتی ہیں، اِس دنیا میں جتنی بھی مصنوعی
جدتیں لائی جارہی ہیں اُتنے ہی نقصان کا اندیشہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے جس میں سے
ہماری نوجوان نسل کے ضائع ہونے کا خطرہ بھی لاحق ہے۔ جس تیزی کے ساتھ ہمارے نوجوان
قوم کا سہارا بننے کی بجائے قوم کے لیے بوجھ ثابت ہورہے ہیں اُسی تیزی سے ہمیں اِس
مسئلے کے حل کے لیے بھی اقدامات کرنے کی ضرورت پیش ہے۔ ہمیں دیکھنا ہے کہ ہماری
نوجوان نسل کن مسائل کا شکار ہے؟ نوجوانوں کو کون استعمال کررہا ہے؟ اِس مسئلے کو
حل کرنے کے لیے کیا کیا
اقدامات کیئے جاسکتے ہیں؟ ہمارا آج کا کالم نوجوانوں اور
اپنی اصلاح کی کوشش پر مبنی ہے۔
:نوجوان نسل کن مسائل کا شکار ہے؟
اگر ہم تجزیہ کریں کہ آج کے نوجوان کن مسائل میں پھنسے ہوئے
ہیں تو ہمیں نوجوان نسل کا ایک اہم حصہ مختلف قسم کے بُرے کاموں اور مشغلات میں
مگن نظر آئے گا۔ جن میں نشہ، بد فعلی، بدمعاشی، وقت کا زیاں اور معاشرتی جرم
سرِفہرست ہیں۔ جس طرح ہم نے اپنے پہلے کالم میں حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کا
ایک قول لکھا تھا کہ "تنہائی زہر ہے"، یقینی طور پر یہ بات بالکل صحیح
ہے۔ ہم نے ایک اور بات بھی پڑھی کہ " تنہائی میں انسان یا تو االلہ سے رجوع
کرتا ہے یا شیطان سے"۔ اگر اِس بات کا اندازہ لگایاجائے تو تنہائی میں زیادہ
تر لوگ بالخصوص "نوجوان نسل" شیطان سے ہی رجوع کرتے ہیں اور اِس طرح
حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ کا قول بالکل صادق آتا ہے، فی زمانہ جدید ٹیکنالوجی
کے ہوتے ہوئے جدھر اِسکے بہت سے فوائد ہیں اُس ہی جگہ بہت سے نقصانات بھی موجود ہیں
ہم پہلے ہی ٹیلی ویژن نامی برائی کو برداشت کر چکے ہیں اور اس بات سے آپ بھی آگاہ
ہیں کہ انسان بُرائی کی طرف جلدی جاتا ہے اور اچھائی کو پہلے شک کی نگاہوں سے
دیکھتا ہے۔ موجودہ دور میں نوجوان ڈیپریشن کی بیماری کا بھی شکار ہیں جسکی وجہ سے اپنے آپ میں احساسِ کمتری کا شدّت سے محسوس ہونا اور اپنے معاشرتی معاملات سے
دور رہنا اور اپنی ایک دنیا بنا لینا بھی نوجوانوں کو اُنکی ذمہ داریوں سے دور
رکھنے کا اہم سبب ہے۔ اِسکے علاوہ لوگوں کا اپنی معاشرتی زندگی کو نظر انداز کرنا
اور ہر چیز کا جواب سوشل میڈیا پر یا انٹرنیٹ پر تلاش کرنا، اور اُنکی زندگی سے
متعلقہ کوئی بھی مسئلہ جس کا حل وہ انٹر نیٹ پرتلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور
تلاش کرتے کرتے وہ ایسے فورمز پر پہنچ جاتے ہیں جہاں سے اُنہیں پچنا چاہیئے ہوتا
ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کا فتنہ بھی انٹر نیٹ کی دنیا میں اپنی ایک اہم جگہ رکھتا
ہے، فیس بک ٹوئیٹر تو اپنی جگہ لیکن مختلف کمپنیز نے ہماری نوجوان نسل کو تباہ
کرنے کہ مختلف فورمز تخلیق کرلیے ہیں جن میں آج کل "ٹک ٹاک" اور
"میلن" نامی فورمز نے نوجوان نسل کو تباہ کرنے کے ٹھیکے لیے ہوئے ہیں
اور ہر بندہ خواہ وہ مرد ہو یا عورت اپنے آپکو وائرل کرنے کے در پہ ہے۔ اور ٹک ٹاک
نامی فورمز پر ہمارے نوجوانوں کو اپنا اداکاری کا شوق پورا کرنے کا جنون سوار ہے
کہ بس کسی طرح وائرل ہوجائیں لیکن اداکاری کے جنون میں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ آیا
ہم وائرل تو ہورہے ہیں لیکن ہم وائرل کیسی نازیبا حرکات کرکے ہورہے ہیں، اِن حرکات
کو وائرل کرنے کے بات دوسرے لوگوں کو کچھ سیکنڈوں یا منٹوں کا مزہ تو مل جاتا ہے
لیکن اُنکی اپنی اور اُنکے گھر والوں کی عزت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ حالانکہ یہ وہ
نوجوان نسل ہے جس کو آگے جاکر ملک و قوم کا سہارا بننا چاہیئے تھا وہ اپنا وقت اور
عزت بیچتی پھر رہی ہے۔ نوجوانوں کے اور بھی کئی مسائل ہیں لیکن اختصار کو مدنظر
رکھتے ہوئے اہم مسائل درج کئے گئے ہیں۔
نوجوانوں کو کون استعمال کررہا ہے؟:
مسائل کے بعد دیکھا جائے کہ یہ مسائل پیدا کیسے ہوئے یا اِن
سب کے پیچھے کون کون سی قوتیں اپنے ٹاسک پورے کررہی ہیں؟ مزکورہ مسائل خود پیدا
نہیں ہوئے بلکہ پیدا کئے گئے، اگر ہم ملکِ پاکستان کو دیکھیں تو پاکستان کے ہر شہر
میں ایسے کئی لوگ دکھائی دیں گے جو نشے کے عادی ہونگےاور مزید گہرائی میں اترا
جائے تو بڑے دینی و اخلاقی جرائم آپ کو نظر آجائیں گے۔ اصل میں یہ سب ٹاسک ہمارے
ملکِ پاکستان کی قوت کمزور بنانے کے لیے پورے کئے جارہے ہیں ہمارے ملک میں کئی
ایسی این۔جی۔اوز کام کررہی ہیں جن کو پیسہ ہی ملک کے نوجوانوں کو تباہ کرنے کے لیے
ملتا ہے اِسکے علاوہ ہماری ملک کی اکثر سیاسی جماعتیں بھی ملک کے نوجوانوں کو تباہ
کرنے کے ٹاسک لے بیٹھیں ہیں جن نوجوانوں کو پڑھائی کرنا تھی انکے ہاتھ میں بندوقیں
نظر آئیں جن نوجوانوں کو ملک کی باگ ڈور سنبھالنی تھی وہ نوجوان ملک کی سڑکوں
پربدمعاشیاں اور بدتہذییبی کا مظاہرہ کرتے نظر آئے۔ یونیورسٹی لیول پر دیکھا جائے
تو ملک دشمن عناصر نے ہمارے اکثر نوجوانوں کو عیاشیوں والی زندگی میں مگن کردیا
اور اُسی جگہ سے کچھ کونام و نہاد اسلام کا لبادہ پہناکر دہشت گرد بنادیا حالانکہ
یہ وہی قوتیں ہیں جنھوں نے اکثر کو عیاشیوں والی زندگی میں لگایا تھا، آپ اِنکی
پلاننگ دیکھیں کہ ایک طرف اکثر کو عیاش کرکے اپنے مذہب و وطن سے بیزار کردیا دوسری
طرف ہمارے پاک مذہب اسلام کو بھی دنیا میں بدنام کرنے کی کوششیش کی گئیں اور ہم
لوگ اپنی اپنی میں لگے رہے کیوںکہ ہمارا اپنا نقصان تو نہیں ہوا، لیکن اس سب کا
کوئی فائدہ نہیں نکلا نقصان ہمارے اپنے ملکوں کو اور ہمارے اپنے ہی لوگوں کو
برداشت کرنا پڑا اور ان سب ٹاسک کے پیچھے بیرونی قوتیں
کارفرمارہیں جن کو آپ یقینی
طور پر جانتے ہیں۔
اِس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا کیا اقدامات کیئے جاسکتے ہیں؟:
نوجوانوں کی طرف جانے سے پہلے ہم بچوں پر بات کرتے ہیں آج
کل بچوں کی تربیت بھی اہم مسئلہ ہے یہ بات بالکل درست ہے کہ والدین اپنے بچوں پر
سو فیصد نظر نہیں رکھ سکتے۔ بچے ہمارے سامنے کیا کررہے ہیں اپنے اسکول و دیگر
اوقات میں بچوں کی کیا سرگرمیاں رہتی ہیں، لیکن ہم ایک کام ضرور کر سکتے ہیں کہ ہم
اپنے بچوں کی تعلیم کو اعتدال میں لانے کی کوشش کریں یہاں اعتدال سے مراد ہے کہ
ہمیں جہاں بچوں کی دنیاوی تعلیم کی فکر ہے وہیں اپنے بچوں کو ایسے دینی مدارس میں
داخلہ دلایا جائے جہاں سے دینی سمجھ بھی آئے۔ اسکی اہم وجہ یہ بھی ہے کہ ہمیں اپنے
دین کے بارے میں بھی علم ہونا چاہیئے کہ ہمارے دین نے ہمیں کیا احکامات جاری کئے ہیں
تاکہ جب ہم کسی سے دین کے بارے میں کوئی بات سنیں تو ہمیں پتہ ہونا چاہیئے کہ آیا
کہ کہنے والا صحیح کہہ رہا ہے یا نہیں۔ یہی وجہ کہ ہمارے بچے بڑے ہوجاتے ہیں اور
اُنکو دنیا کی تو ایک سے ایک باتیں پتہ ہوتی ہیں مگر دین کا کچھ پتہ نہیں ہوتا
اسطرح کچھ دین فروش لوگ اُن سے ملکر ایسی باتیں کرتے ہیں جن کا انہیں پہلے کبھی
علم ہوتا ہی نہیں ہے اور دین فروش لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتے ہیں۔ پھر
یہی وہ دین فروش ہوتے ہیں جنھیں اسلام کا لبادہ پہناکر اغیار نے اسلام کو بدنام
کرنے بھیجا ہے، اور آپکے سامنے ہے کہ ہمارے ملک میں آئے روز دہشت گردی کہ واقعات
پیش آتے ہیں جن میں اِن ہی دین فروش لوگوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور آلٰہ کار ہمارے
نوجوان بن بیٹھتے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کی تربیت کے لیے علاقائی طور پرماہانہ سیمینار
وغیرہ ترتیب دینے کی ضرورت ہے اور نوجوانوں کے پاس جاکر اُنھیں اسکی دعوت دی جائے
اور ایسے اقدامات کئے جائیں کہ نوجوان آپکی طرف آئیں۔ اِن سیمینار میں مختلف شعبوں
سے تعلق رکھنے والے ماہرین کو نوجوان نسل کی تربیت کے لیے بلایا جائے۔ مساجد میں
بھی ایسی محافل کا انعقاد کیا جائے اور نوجوان نسل پر بیانات رکھے جائیں۔
ہمارا پیغام:
اِس طرح کے دوسرے طریقوں اور مستقل کوششوں سے ہم آنے والے
چند سالوں میں اپنی نوجوان نسل کو ایک اہم مقام پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہم آخر میں یہ
پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہمیں بہتر معاشرے کے قیام کے لیے تربیت یافتہ لوگوں کی
ضرورت ہے اگر ہمارے گھرانے تربیت یافتہ ہونگے تو ہم اپنے مقصد میں کامیاب ہونگے ہم
چاہتے ہیں کہ ہمارے اپنے گریجویٹ، ماسٹر یا ڈاکٹر ہوجائیں یہ سب اپنی جگہ صحیح ہے
لیکن یہ "سب کچھ" نہیں ہوسکتے کیونکہ دین کو الگ کرکے ہم نے اپنی
آستینوں میں ہی سانپ پیدا کرلیے ہیں ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی اور اپنوں کی دینی
تعلیم کا بندوبست بھی کریں بالخصوص اپنی خواتین کی کیونکہ خواتین ہی اپنی نسلوں تک
علم پہنچاتی ہیں۔ اپنے بچوں اور اپنی خواتین کو ایسے اداروں میں بھیجا جائے جہاں
وہ دین کی صحیح سمجھ حاصل کر سکیں اور دوسروں کو بھی اس علم سے روشناس کرسکیں۔
لیکن اِس بات کا خاص خیال رکھیں کہ جن اداروں میں آپ اپنوں کو بھیج رہیے ہیں وہاں
کے معلمین میں عشقِ رسول صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کی چمک ہے کیا وہ حضور علیہ
السلام کے عاشقوں میں ہیں، اگر جواب ہاں میں ہے تو وہی لوگ آپ کے پیاروں کی نجات
کے ضامن رہیں گے اِس دینا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ اور ہماری نسلیں ہماری قوم کی بقاء کی ضامن ہونگی۔
تحریر از: محمد فیصل ترابی




ماشإاللہ بہت پیاری معلومات ہے۔👌
ReplyDeletemashaALLAH bht khoob
ReplyDelete