ہم اپنے ایمان کو پُختہ کیسے کرسکتے ہیں؟
:ہمارا اسلاف
الحمدللہ ہم اگر اپنے اسلاف پر ایک نگاہ ڈالیں تو ہم
اِن میں بہت عظیم شخصیات کو دیکھتے ہیں اور سب کے سب ایک عظیم مقام رکھتے ہیں۔
ہمارے پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے عشق، وفا اور ایمان کی پختگی اور دینِ
حق کی خاطر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کردینا ہمارے اسلاف کے خون میں شامل ہے۔
ہمارے اسلاف میں انبیاء و مرسلین کے بعد سب سے بڑا مرتبہ رکھنے والے آقا علیہ
السلام کے پیارے حضرت سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ ہیں۔ سیدنا صیقِ اکبر رضی
اللہ عنہ مردوں میں سب سے پہلے ایمان لانے والے ہیں۔ آپکی پیارے آقا علیہ السلام سے
وفاداری، عشق اور جاں نثاری کے واقعات سے کون واقف نہیں۔ ہمارے اسلاف اللہ اور
اُسکے حبیب علیہ السلام کے خاص دوستوں میں شمار ہیں، ایسے اسلاف پانے کے بعد ہم
کیوں محروم ہیں، اگر ہم خود پر اِک نگاہ
ڈالیں تو ہم اپنے آپ میں بے شمار کمزوریاں دیکھیں گے، جیسا کہ ہمارا ایمان یا تو
جاتا جارہا ہے یا اُس کمزور مقام پر ہے کہ کب ہم سے جُدا ہوجائے، ہمارے دلوں میں
دنیا کی محبت بس رہی ہے، ہمیں صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ سے اللہ اور اُسکے حبیب
علیہ السلام کی رضا و محبت حاصل کرنا سیکھنا تھا حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے
وفا اور اُن پر جاں نثاری کے آداب سیکھنا تھے لیکن ہم نے اپنے دین کو اور اسلاف کو
پس پشت ڈال دیا اور اس فانی دنیا کو ہی سب مان لیا۔ لیکن وقت ابھی بھی ہے ہم اپنے
اسلاف کو پڑھ سکتے ہیں اور دین و دنیا میں کامیابی کا راز جان سکتے ہیں لیکن اسکے
لیے ہمیں وقت دینا ہوگا اور یہ وقت ہمارے لیے بروزِ قیامت نجات کا سبب ہوسکتاہے۔
عشرۂ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی نسبت سے ہم آپ کے اور اپنے لیے صدیقِ اکبررضی
اللہ عنہ کی پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے وفاداری، عشق اور ایمان کی
پختگی کے متعلق کچھ لکھنے جارہے ہیں تاکہ ہماری اور آپکی تربیت میں ہمارا بھی ذرا
سا حصہ شامل ہوجائے۔
:صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کے ایمان کی پختگی
جب پیارے آقا صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو معراج
ہوئی تو جب آقا علیہ السلام نے لوگوں سے اسکا ذکر کیا تو مشرکین نے ایک طرف واویلا
مچادیا اور مشرکین یہ جانتے تھے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ پیارے آقا علیہ السلام
کے خاص دوست ہیں تو مشرکین ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ
اب بھی تو اپنے دوست یعنی حضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے رغبت رکھے گا جبکہ وہ
کہتے ہیں کہ میں رات کو بیت المقدس پہنچایا گیا۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ نے کہا
کہ آپ علیہ السلام نے یہ فرمایا ہے؟ مشرکین نے جواب دیا ہاں۔ تو آپ رضی اللہ عنہ
نے فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے سچ فرمایا ہے کیوں کہ میں اس سے بھی
بڑھ کر کہ اگر آپ علیہ السلام کہیں کہ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں۔
اس میں بھی آپ کو سچا جانتا ہوں۔ اسی لیے آپ کا نام صدیق ہوا۔
(تاریخ الخلفاء)
:صدیقِ اکبررضی اللہ عنہ کی شان مبارک
ایک اور واقعہ آپ کے گوش گزار کرتا ہوں جب رسول
صلی اللہ علیہ والہ وسلم شبِ معراج میں واپس آتے وقت مقام "ذی طویٰ"
پرپہنچے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا۔ اے جبرائیل لوگ میری تصدیق نہ کریں گے۔ حضرت
جبرائیل علیہ السلام نے عرض کی۔ آپ علیہ السلام کی تصدیق حضرت ابو بکر صدیق رضی
اللہ عنہ کریں گے اور وہ صدیق ہیں۔
(تاریخ الخلفاء)
:ہمارا پیغام
یہ دو مختصر سے واقعات ہیں مگر ہم غور کریں تو
ہمیں سیکھنے کو بہت کچھ ملتا ہے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا حضور علیہ
السلام پر کامل ایمان رکھنا اُنکی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرنا دینِ حق کی سر
بلندی کی خاطر لگے رہنا اور حضور علیہ السلام سے سچی وفاداری نبھانا، اور پھر اپنے
رب کی بارگاہ میں ایک عظیم مقام پانا۔ صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی شان بہت اعلیٰ ہے اُنکے متعلق
جتنا لکھا جائے کم ہے بس ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اللہ ربّ العزت کے خاص چُنے
ہوئے بندوں میں سے ایک ہیں۔
ہمیں بھی صدیقِ اکبر رضی اللہ عنہ کی عظیم
شخصیت سے حضور علیہ السلام سے عشق، وفاداری، ایمان کی پختگی اور حضور صلی اللہ
علیہ والہ وسلم کی خاطر جاں نثاری کے آداب سیکھنا چاہیئیں۔ اور بحثیثیت مسلمان،
مسلمان ہونے کا حق ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرنی چاہیئے۔ اللہ ربّ العزت ہماری
اِس چھوٹی سی کاوش کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے اور ہمیں اپنے اسلاف کے نقشِ
قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
تحریر از: محمد فیصل ترابی



MashaALLAH
ReplyDeleteماشإاللہ بہت معلوماتی تحریر ہے
ReplyDeleteماشاءاللہ بہت زبردست بلاگ ہیے
ReplyDelete